SAHIH BUKHARI HADEES NO.29 - 35 | صحیح بخاری حدیث 29 سے 35 تک
حدیث نمبر 29
SAHIH BUKHARI HADEES NO.29
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے دوزخ دکھلائی گئی تو اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں جو کفر کرتی ہیں۔ کہا گیا یا
رسول اللہ! کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں۔ اور
احسان کی ناشکری کرتی ہیں۔ اگر تم عمر بھر ان میں سے کسی کے ساتھ احسان کرتے رہو۔ پھر تمہاری طرف سے
کبھی کوئی ان کے خیال میں ناگواری کی بات ہو جائے تو فوراً کہہ اٹھے گی کہ میں نے کبھی بھی تجھ سے کوئی بھلائی
نہیں دیکھی۔
حدیث نمبر 30
SAHIH BUKHARI HADEES NO.30
میں اس شخص ( علی رضی اللہ عنہ ) کی مدد کرنے کو چلا۔ راستے میں مجھ کو ابوبکرہ ملے۔ پوچھا کہاں جاتے ہو؟ میں
نے کہا، اس شخص ( علی رضی اللہ عنہ ) کی مدد کرنے کو جاتا ہوں۔ ابوبکرہ نے کہا اپنے گھر کو لوٹ جاؤ۔ میں نے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواریں لے کر
بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! قاتل تو خیر ( ضرور دوزخی ہونا چاہیے)
مقتول کیوں؟ فرمایا ”وہ بھی اپنے ساتھی کو مار ڈالنے کی حرص رکھتا تھا۔“ ( موقع پاتا تو وہ اسے ضرور قتل کر دیتا دل
کے عزم صمیم پر وہ دوزخی ہوا ) ۔
حدیث نمبر 31
SAHIH BUKHARI HADEES NO.31
میں ابوذر سے ربذہ میں ملا وہ ایک جوڑا پہنے ہوئے تھے اور ان کا غلام بھی جوڑا پہنے ہوئے تھا۔ میں نے اس کا سبب
دریافت کیا تو کہنے لگے کہ میں نے ایک شخص یعنی غلام کو برا بھلا کہا تھا اور اس کی ماں کی غیرت دلائی ( یعنی گالی
دی ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معلوم کر کے مجھ سے فرمایا اے ابوذر! تو نے اسے ماں کے نام سے
غیرت دلائی، بیشک تجھ میں ابھی کچھ زمانہ جاہلیت کا اثر باقی ہے۔ ( یاد رکھو ) ماتحت لوگ تمہارے بھائی ہیں۔ اللہ
نے ( اپنی کسی مصلحت کی بنا پر ) انہیں تمہارے قبضے میں دے رکھا ہے تو جس کے ماتحت اس کا کوئی بھائی ہو تو
اس کو بھی وہی کھلائے جو آپ کھاتا ہے اور وہی کپڑا اسے پہنائے جو آپ پہنتا ہے اور ان کو اتنے کام کی تکلیف نہ
دو کہ ان کے لیے مشکل ہو جائے اور اگر کوئی سخت کام ڈالو تو تم خود بھی ان کی مدد کرو۔
حدیث نمبر 32
SAHIH BUKHARI HADEES NO.32
جب سورۃ الانعام کی یہ آیت اتری جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں گناہوں کی آمیزش نہیں کی تو آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو بہت ہی مشکل ہے۔ ہم میں کون ایسا ہے جس نے گناہ
نہیں کیا۔ تب اللہ پاک نے سورۃ لقمان کی یہ آیت اتاری إن الشرك لظلم عظيم کہ بیشک شرک بڑا ظلم ہے۔
حدیث نمبر 33
SAHIH BUKHARI HADEES NO.33
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، منافق کی علامتیں تین ہیں۔ جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس
کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔
حدیث نمبر 34
SAHIH BUKHARI HADEES NO.34
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار عادتیں جس کسی میں ہوں تو وہ خالص منافق ہے اور جس کسی میں ان
چاروں میں سے ایک عادت ہو تو وہ ( بھی ) نفاق ہی ہے، جب تک اسے نہ چھوڑ دے۔ ( وہ یہ ہیں ) جب اسے
امین بنایا جائے تو ( امانت میں ) خیانت کرے اور بات کرتے وقت جھوٹ بولے اور جب ( کسی سے ) عہد
کرے تو اسے پورا نہ کرے اور جب ( کسی سے ) لڑے تو گالیوں پر اتر آئے۔ اس حدیث کو شعبہ نے ( بھی )
سفیان کے ساتھ اعمش سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر 35
SAHIH BUKHARI HADEES NO.35
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو شخص شب قدر ایمان کے ساتھ محض ثواب آخرت کے لیے ذکر و عبادت میں
گزارے، اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
Post a Comment